
Post 178
صوبائی وزیر توانائی سیدناصرحسین شاہ کی ڈاکٹر ریحانہ سید وویمن ونگ کراچی کی جانب سے نیاز امام حسین علیہ السلام میں شرکت۔ اس موقع پر پاکستان ہیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے دیگر عہدیداران سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

صوبائی وزیر توانائی سیدناصرحسین شاہ کی ڈاکٹر ریحانہ سید وویمن ونگ کراچی کی جانب سے نیاز امام حسین علیہ السلام میں شرکت۔ اس موقع پر پاکستان ہیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے دیگر عہدیداران سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

#SyedNasirHussainShah #SNHS #Minister #Energy #PlanningAndDevelopment #Sindh #PakistanPeoplesParty #AliHouseKarachi

صدر آصف علی زرداری سے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کی ملاقات۔ سید ناصر حسین شاہ نے ایوان صدر اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ملاقات میں موجودہ قومی و صوبائی سیاسی صورتحال، سندھ کے امور پر تبادلہ خیال ملاقات میں سندھ میں جاری مختلف فلاحی و ترقیاتی منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔

کراچی: وزیر ترقیات و منصوبہ بندی اور توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ بدین ڈی اے پی پر عملدرآمد کے ذریعے ضلع کو کمزور سے مضبوط اور ترقی پسند ضلع میں تبدیل کیا جائے گا، جو مقامی کمیونٹی کے روزگار، فوڈ سکیورٹی، اور پائیدار انفراسٹرکچر کو تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد حکومت سندھ نے ہر ضلع کے لیے ایڈاپیشن پلان تیار کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا، جس میں اے ڈی پی سی اور ورلڈ بینک سمیت دیگر اداروں کے تعاون کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدین ڈسٹرکٹ ایڈاپشین پلان (DAP) کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کے موقع پر پی اینڈ ڈی سیکریٹریٹ کراچی میں کیا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام شرکت کی اور ایشین ڈیزاسٹر پری پیئرڈنس سینٹر (ADPC) کے تحت تیار کردہ اس منصوبے کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا جسے ورلڈ بینک کے تعاون سے کیئر فار ساؤتھ ایشیا پراجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ وزیر ناصر حسین شاہ نے اے ڈی پی سی کی جامع محنت کو سراہتے ہوئے حکومت سندھ کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے سالانہ بجٹ سے ہٹ کر بھی مالی وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ دیگر ڈونرز سے بھی اضافی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ بدین ڈی اے پی کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔ اس اقدام کے ذریعے بدین کو ایک کمزور ضلع سے کلائمٹ ریزیلینٹ (موسمیاتی لحاظ سے مضبوط) اور ترقی پسند ضلع میں تبدیل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں زراعت، روزگار، عوامی صحت، سماجی تحفظ اور پائیدار انفراسٹرکچر کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر ناصر شاہ نے حیدرآباد کے کمشنر کی نگرانی میں ایک خصوصی یونٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جو اس منصوبے پر مؤثر عملدرآمد اور اس کی نگرانی کو یقینی بنائے گا۔ یہ یونٹ پورے معاشرے کے اشتراک سے ضلع بدین کو زیادہ مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کا قیام محکمہ منصوبہ بندی و ترقی نے بطور سیکریٹریٹ کیا تھا۔ اس منصوبے کا تفصیلی جائزہ کئی اسٹیک ہولڈرز نے کیا، جن میں آبپاشی، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی، زراعت، بلدیات، جنگلات و وائلڈ لائف، لائیو اسٹاک و ماہی گیری، صحت، سماجی تحفظ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، اور خواتین ترقی کے محکموں کے سیکریٹریز شامل تھے۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ممبر (ترقیات) پی اینڈ ڈی، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر بدین نے بھی قیمتی تجاویز دیں۔ بدین کے ایم پی ایز اور ایم این ایز سے بھی مشاورت کی گئی تاکہ مقامی نمائندوں کی آراء اس منصوبے میں شامل کی جا سکیں۔ منصوبے کا حتمی مسودہ کیئر پراجیکٹ کے ریجنل ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے وزیر ناصر شاہ کو پیش کیا، جس موقع پر تمام متعلقہ افسران اور اسٹیک ہولڈرز موجود تھے۔ سیکریٹری آبپاشی جناب ظریف اقبال کھیڑو نے ڈیٹا اور اننڈیشن میپ کی بروقت اپ ڈیٹ کی اہمیت پر زور دیا، جو اس منصوبے میں شامل کر دی گئی ہیں۔ وزیر موصوف نے اجلاس کے اختتام پر اس منصوبے کی توثیق کی اور اس کی باقاعدہ منظوری کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اپنے اختتامی کلمات میں وزیر ناصر حسین شاہ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کو سراہا، خاص طور پر اے ڈی پی سی کا شکریہ ادا کیا جس نے اس پورے عمل میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور حکومت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دی۔ اے ڈی پی سی نے بھی وزیر ناصر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی جناب نجم احمد شاہ، سیکریٹری پی اینڈ ڈی سجاد عباسی، سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف اقبال کھیڑو، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، کمشنر حیدرآباد بلال میمن، اور ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی سمیت ان کی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے بدین ڈی اے پی کی تکمیل ممکن ہوئی۔ اس منصوبے کی تیاری جولائی 2024 میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ (MoCC\&EC) کی ہدایات پر شروع ہوئی، جس میں اے ڈی پی سی کی ماہر ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ اس عمل میں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر بدین کاشف منگی، ممبر (ترقیات) پی اینڈ ڈی محمد سلیم جلبانی، اور کنٹری کوآرڈینیٹر ثناء ذوالفقار سمیت دیگر ماہرین نے قیمتی خدمات انجام دیں۔ اے ڈی پی سی کی محترمہ ثناء ذوالفقار نے بتایا کہ یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا جامع منصوبہ ہے، جو اسٹیک ہولڈرز، پارلیمنٹرینز اور سیاسی رہنماؤں کی شمولیت سے تیار کیا گیا، تاکہ مقامی ملکیت اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے کلائمٹ ریزیلینٹ مستقبل کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جو پورے معاشرے کی شراکت پر مبنی ہے۔

کراچی: صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کی مرکزی عشرہ مجالس محرم الحرام 1447ھ کی ساتویں مرکزی مجلس عزا نشتر پارک کراچی آمد، خطیب مجلس حجتہ الاسلام علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی و وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سید وقار مہدی، نثار احمد کھوڑو، سعید غنی، کمشنر کراچی اور دیگر کی شرکت۔

کراچی: صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے جشن عید غدیر کے موقع پر منعقدہ جشن میں شرکت فرمائی۔ جشن میں مشہور و معروف منقبت خوانوں سمیت مشہور و معروف سیاسی سماجی اور مذہبی شخصیات بھی موجود تھیں۔

سولرائیزیشن کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کیلئے بجٹ میں 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، سید ناصر حسین شاہ بلاک بجٹ کے ذریعے صوبے کی عوام کیلئے مختلف اقدامات کئے جائیں گے، وزیر توانائی سندھ کراچی: وزیر ترقیات، توانائی و منصوبہ بندی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سولرائیزیشن کے ذریعے عوام کو بجلی کی مد میں ریلیف دینے کیلئے 25 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کیلئے وہ چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ کے شکرگزار ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو کا یہ وژن ہے کہ سندھ کی عوام کو سستی اور مفت بجلی فراہم کی جائے، اس حوالے سے پورے صوبے میں خاص طور پر سندھ کے انتہائی پسماندہ اور غریب عوام کیلئے حکومت کی جانب سے سولر پینل کی فراہمی اور سولرائیزیشن کا عمل جاری ہے۔ محکمہ توانائی سندھ اس حوالے سے ہر ممکناً اور ترجیحی بنیادوں پر اقدام جاری رکھا ہوا ہے۔ وزیر توانائی و منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ بجٹ میں رکھے گئے بلاک بجٹ سے صوبے کی عوام کیلئے مختلف اقدامات کئے جائین گے۔ ناصر شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی اکثریت ہے کہ ہمیں بجٹ پاس کروانے کیلئے کسی کی بھی مدد یا ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر کے دوران انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اپوزیشن اراکین وزیراعلیٰ کی ڈائیس کے آگے آگئے جوکہ اصولوں کے خلاف تھا، حالانکہ ہماری اپوزیشن اراکین سے بات چیت ہوئی ہے اور تقاریر کا وقت بھی طے کیا گیا ہے۔ لیڈرشپ کو ٹارگٹ نہیں کیا جانا چاہئے جس پر اپوزیشن نے اتفاق کیا۔ ناصر شاہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ بلاک ایلوکیشن کے ذریعے اراکین اسمبلی کی تجاویز پر اسکیمز رکھی جائیں گی۔ اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں احتجاج کا طریقہ عجیب تھا۔ اپوزیشن لیڈر نے غلط بیانی کی ، علی خورشیدی کود ادی فریال ٹالپور کے پاس آئے جس پر فریال ٹالپور نے کہا کہ آپ کا طریقہ کار غلط تھا۔ ناصر شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پورے سندھ میں بلا تفریق کام کیا۔ وزیر توانائی ترقیات و منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو خدمت کا صلہ دیا ، کراچی کو ہم زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کو کبھی پسند نہیں کرتے، اسرائیل کے عسکری ٹھکانوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ اسرائیل پر آئی تباہی سے پوری دنیا کے مسلمان خوش ہیں۔

کراچی: سید ناصر حسین شاہ وزیر توانائی سندھ نے جسٹس ریٹائرڈ عبدالغنی شیخ کے انتقال پر انکے بیٹے سلام شیخ سے تعزیت کی اور فاتحہ پڑھی۔ صوبائی وزیر نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی اور لواحقین سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔

صوبائی وزیر توانائی، ترقیات و منصوبابندی سید ناصر حسین شاہ نے علی ہائوس پر آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کی اور مسائل سن کر حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔۔۔

کے ای اور این ٹی ڈی سی کے درمیان انٹرکنکشن منصوبہ کراچی کو سستی بجلی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرے گا، وزیر توانائی سندھ منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کیلئے سندھ و بلوچستان کی حکومتیں ہر ممکناً اقدامات تعاون کریں گی، سید ناصر حسین شاہ کراچی: وزیر توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک اور این ٹی ڈی سی کے درمیان انٹرکنکشن منصوبہ کراچی کے بجلی صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج اس حوالے سے منعقدہ ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کے موقع پر کیا۔ اجلاس میں سی او کے الیکٹرک مونس علوی ممبر ٹیکنکل نیپرا رفیق شیخ اور ایم ڈی این ٹی ڈی سی اور محمد وسیم کے علاوہ دیگر بھی شریک تھے۔ اس موقع پر کے الیٹرک کے سی او اور نیپرا کے ممبر ٹیکنکل نے وزیر توانائی کو منصوبے میں درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر توانائی نے اس موقع پر اجلاس کو یقین دلایا کہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں منصوبے میں درپیش مسائل کو دور کرنے کیلئے ہر ممکناً تعاون کریں گی۔ مملک و عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے منسوبے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کیلئے کوشاں ہے کیوں کہ جیسے ہی یہ منصوبہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ فعال ہوگا تو نیشنل گرڈ سے کراچی کو مزید سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی جس سے گھریلو اور صنعتی صارفین دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ نومبر 2024 میں جب انٹرکنکشن کی صلاحیت 1000 میگاواٹ کی فیول لاگت میں فی یونٹ 5 روپے کی کمی کی گئی اور مجموعی طور پر 24 ارب روپے کی بچت ہوئی جو اس منصوبے کے اثرات کو واضح کرتی ہے۔ ناصر شاہ نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل میں رائٹ آف وے زمین کے حصول کے حوالے سے جو رکاوٹیں ہیں انھیں دور کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا فوکس ایسے پائیدارا ور مشترکہ توانائی حل پر ہے جو بجلی کو سستا بنائیں، صنعتوں کی ترقی کو سہا رادیں اور طویل مدتی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ یہ منصوبہ کراچی کو پاکستان کی معیشت کا مضبوط انجمن بنانے کی قومی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔