
Post 253
Special Session and Flag Hoisting Ceremony at Sindh Assembly on 78th Independence Day with Participation of Differently Abled Students from Ida Rieu Welfare Association.

Special Session and Flag Hoisting Ceremony at Sindh Assembly on 78th Independence Day with Participation of Differently Abled Students from Ida Rieu Welfare Association.

Karachi’s biggest 78th Independence Day and Marka-e-Haq Concert at the National Stadium. Pakistan Zindabad! #IamPakistan#PakistanIndependenceDay#SindhGovt#MarkaeHaq#14August#Karachi#SyedNasirHussainShah#SNHS

تھرکول منصوبے سے پاکستان توانائی میں خود کفیل ہوگا، سب سے سستی بجلی نیشنل گرڈ میں فراہم کر رہے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ تھرپارکر: وزیر توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے تھرکول کے مختلف منصوبوں کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھرکول پاکستان کی ترقی کا ایک انقلابی منصوبہ ہے، جو نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ خطے کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔ اس وقت نیشنل گرڈ میں سب سے سستی بجلی تھر سے فراہم کی جا رہی ہے، جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تھر کول پاور شہید وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا خواب تھا جس کو صدر آصف علی زرداری اور چیٸرمین بلاول بھٹو نے حقیقت میں بدل کر رکھ دیا انہوں نے کہا کہ مائننگ کے رقبے میں توسیع اور دیگر منصوبوں کے آغاز سے بجلی کے ٹیرف میں مزید کمی متوقع ہے، جبکہ دنیا کے بڑے سرمایہ کار پاکستان اور خاص طور پر تھر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں متعدد بین الاقوامی وفود، غیر ملکی سربراہان اور کارپوریشنز نے تھر کے منصوبوں میں شراکت کے لیے معاہدے (ایم او یوز) کیے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ کول گیسفکیشن کے تحت کھاد کا ایک بڑا صنعتی پلانٹ لگایا جا رہا ہے، جبکہ مزید پاور پلانٹس کی تعمیر اور ریل نیٹ ورک کی توسیع پر بھی تیز رفتار کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کا کوئلہ نہ صرف بجلی گھروں بلکہ سیمنٹ، کھاد اور دیگر صنعتوں کو بھی فراہم کیا جائے گا، جس سے خطے کی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ وزیر توانائی سندھ نے کہا کہ مقامی آبادی کی فلاح اور روزگار کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت اسکول، اسپتال، ٹریننگ سینٹرز اور گھروں میں سولرائزیشن کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر تھر کے عوام کو 100 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے عام گھریلو صارفین کے بلوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ترقیاتی فنڈز براہِ راست مقامی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر رہی ہے، خاص طور پر ان خاندانوں پر جنہیں مائننگ ایریا سے ری سیٹل کیا گیا ہے۔ مستقبل میں اس سہولت کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا تاکہ پورے تھر کے عوام ترقی کے ثمرات حاصل کر سکیں۔ناصر شاہ نے خواتین ڈمپر ڈراٸیور سے بھی ملاقات کی اور کہاکہ خواتین ڈمپر ڈراٸیور کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے اپیل کی کہ منفی پروپیگنڈے کے بجائے تھر کی کامیاب اور مثبت کہانیاں اجاگر کی جائیں۔ “یہ منصوبہ پاکستان کو توانائی میں خود کفیل بنانے، بجلی کے نرخ کم کرنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے، ناصر شاہ نے کہا کہ تھر سے ریلوے کا منصوبہ بھی تیز رفتاری سے تکمیل کی جانب گامزن ہے تاکہ تھر کے کوٸلے کے زخاٸر کو پورے ملک کے پاور پلانٹ تک وسیع کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ تھر میں سماجی واقتصادی تبدیلی ان منصوبوں کی ترقی کے بغیر ممکن نہیں تھی اس موقعہ پر ناصر شاہ نے تھر فاٶنڈیشن اہسپتال کے دوسرے فیز کا افتتاح کیا جس میں 50 بستروں پر مشتمل ماں اور بچہ یونٹ زیر تعمیر ہے اس موقعہ پر تھر فاٶنڈیشن کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دیتے ہوۓ بتایا کہ اہسپتال مفت مشاورت،ادویات،لیبارٹری خدمات اور تشخیصی اسکین جیسے الٹراساونڈ اور ڈیجیٹل ایکسرے پیش کرتا ہے اپنے قیام سے آج تک تھر فاونڈیشن آپریشنل سہولیات کے ذریعے 370,000 سے ذاٸد مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرچکا ہے ناصر شاہ اور اراکین اسمبلی کو تھر فاٶنڈیشن اسکول کا بھی دورہ کرایا گیا صوباٸ وزیر نے حال ہی میں فیڈرل بورڈ میٹرک کے امتحان پاس کرنے والے طلباء اور طالبات میں تعرفی اسناد تقسیم کی

سندھ بھر کے اراکین اسمبلی کو 11 جولائی 2025، بروز جمعہ کی شام تک ترقیاتی اسکیمیں جمع کرانے کی ہدایت، ہر اسکیم کی مالیت 500 ملین سے زائد نہ ہو: ناصر حسین شاہ کراچی: وزیر منصوبہ بندی و ترقیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے صوبے بھر کے اراکین اسمبلی کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی ترقیاتی اسکیمیں 11 جولائی 2025، بروز جمعہ کی شام تک لازمی طور پر جمع کروائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی اسکیم کی لاگت 500 ملین روپے سے زائد نہیں ہونی چاہیے، جبکہ ترجیحاً اسکیموں کی مالیت 300 ملین روپے تک محدود رکھی جائے تاکہ ان پر فوری عمل درآمد ممکن ہو۔ یہ ہدایات انہوں نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں صوبے کے جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں قائم مقام چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (P&D) سجاد حسین عباسی، اراکین سندھ اسمبلی سمیتا افضال، سعدیہ جاوید، حاجی نور احمد بھرگڑی اور دیگر شریک ہوئے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام موصولہ اسکیموں کا فوری طور پر تکنیکی و مالی جائزہ لیا جائے گا اور انہیں متعلقہ فورمز کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ ترقیاتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر حکومت سندھ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو اپنی اولین ترجیح بنا چکی ہے۔ انہی رہنما اصولوں کے تحت تمام محکمے بھرپور انداز میں متحرک ہیں اور اراکین اسمبلی کی بروقت شمولیت ترقیاتی اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

#Minister #PlanningAndDevelopment #Energy #Sindh #SyedNasirHussainShah #SNHS #DeputyGeneralSecretaryPPPSindh #PakistanPeoplesParty

#SyedNasirHussainShah #SNHS #Minister #Energy #PlanningAndDevelopment #Sindh #PakistanPeoplesParty #AliHouseKarachi

#SyedNasirHussainShah #SNHS #Minister #Energy #PlanningAndDevelopment #Sindh #PakistanPeoplesParty #AliHouseKarachi

#SyedNasirHussainShah #SNHS #MuhammadBukhshMeharKhan #SyedAkbarNasirShah #PakistanPeoplesParty #Sindh #AliHouseKarachi

وزیر ترقیات و منصوبہ بندی کی زیر صدارت اجلاس میں صوبہ کے 10 محکموں کی 1168 اسکیموں کیلئے 160 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں نئی اسکیموں کے مقابلے میں جاری اسکیموں کیلئے ترجیحاً رقم مختص کرنے کی تجویز کراچی: وزیر ترقیات و منصوبہ بندی اور توانائی سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت مالی سال 26-2025 کیلئے صوبہ سندھ کے 10 محکموں کی 1168 اسکیموں کیلئے 160 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئیں، جن محکموں کے ترقیاتی اسکیموں کیلئے بجٹ تجاویز پیش کی گئی ان مین ورکس اینڈ سروسز بشمول جیل خانہ جات، ہوم ڈپارٹمنٹ کی اسکیمیں ، زراعت سپلائی اینڈ پرائیسز، لائیو اسٹاک اینڈ فشریز، کلچرل ، ٹورزم، اینٹی کیوٹیز اینڈ آرکائیوز، اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز، ایس اینڈ جی اے اینڈ سی ، انڈسٹریز اینڈ کامرس، انویسٹمنٹس، انرجی اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے محکموں کی اسکیمیں شامل ہیں۔ ناصر شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں نئی اسکیموں کے مقابلے میں جاری ترقیاتی اسکیموں کیلئے ترجیحاً رقوم مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں معلقہ محکموں کے وزراء، سیکریٹریز، اعلیٰ افسران کے علاوہ چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم احمد شاہ شریک تھے۔ وزیر ترقیات و منصوبہ بندی نے اس موقع پر کہا کہ تمام محکموں کی ترقیاتی اسکیمیں تیار کرتے وقت چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات اور فارمولے کو مدنظر رکھ تیار کی جائیں۔ ناصر شاہ نے کہا کہ چیئرمین صاحب کی خصوصی ہدایات ہیں کہ ترقیاتی اسکیموں میں ہر کمیونٹی اور علاقے کا خیال رکھا جائے اور بلاتفریق ترقیاتی کام کروائے جائیں۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ محکموں کی نئی اور جاری اسکیموں کیلئے اپنے اپنے محکموں کیلئے جو بجٹ مختص کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں ان کے مطابق محکمہ ورکس اینڈ سروسز بشمول جیلوں کی اسکیموں کیلئے 675 اسکیموں کیلئے 80 ارب روپے، زراعت سپلائی اور پرائیسز کی 60 اسکیموں کیلئے 9.7 ارب روپے، لائیواسٹاک اینڈ فشریز کی 38 اسکیموں کیلئے 4.9 ارب روپے، کلچر ٹورزم آرکائیوز اینڈ اینٹ کیوٹیز کی 44 اسکیموں کیلئے 2.8 ارب روپے، اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کی 210 اسکیموں کیلئے 6.5 ارب روپے، سروسز اینڈ جنرل اینڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کی 77 اسکیموں کیلئے 39 ارب روپے، انڈسٹریز اینڈ کامرس کی 1.8 ارب روپے، انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کی 2 اسکیموں کیلئے 0.4 ارب روپے ، انرجی ڈپارٹمنٹ کی 16 اسکیموں کیلئے 12.8 ارب روپے اور پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی 28 اسکیموں کیلئے 12.7 اب روپے مختص کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔