کراچی: صوبائی وزیر بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت لیاری ٹرانسفورمیشن پروجیکٹ کا ایک اہم اور تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، پروجیکٹ ڈائریکٹر، متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی، اجلاس میں لیاری کے دیرینہ مسائل کے حل، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری اور مجوزہ اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا، وزیر بلدیات کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تقریباً پانچ ارب روپے کی لاگت سے لیاری ٹرانسفورمیشن پروجیکٹ پر مرحلہ وار کام کیا جائے گا جس کے تحت علاقے کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا، اس موقع پر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ لیاری کے عوام کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور حکومت سندھ اس کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے پرعزم ہے، انہوں نے بتایا کہ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کے ذریعے منصوبے کا جامع ماسٹر پلان تیار کر لیا گیا ہے جس میں پانی کی فراہمی، سیوریج نظام کی بہتری، گیس کی دستیابی، برساتی نالوں کی بحالی اور گلیوں و سڑکوں کی ازسرنو تعمیر کو شامل کیا گیا ہے، وزیر بلدیات نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی واضح ہدایات ہیں کہ لیاری جیسے اہم عوامی منصوبے میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا ناقص کارکردگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کو مکمل جوابدہی کا سامنا کرنا ہوگا، انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد کے دوران شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے جبکہ فنڈز کے بروقت اجراء اور ان کے درست استعمال کی سخت نگرانی کی جائے، اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اور ادارے باہمی رابطے اور مؤثر کوآرڈینیشن کے ذریعے منصوبے کی پیش رفت کو تیز کریں تاکہ مقررہ مدت میں اہداف حاصل کیے جا سکیں، ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ لیاری کے عوام کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی بلکہ علاقے میں معاشی و سماجی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، اجلاس میں فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، تکنیکی رکاوٹوں کے فوری حل اور منصوبے کی باقاعدہ پیش رفت رپورٹ مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ اعلیٰ سطح پر مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔













