سولر پاکستان 2025 کا شاندار اختتام — متبادل توانائی اور صنعتی تعاون میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات روشن۔
حکومتِ سندھ صنعتی تعاون کے فروغ اور معاشی مواقع کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے،
وزیر توانائی سندھ
کراچی: کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ تین روزہ سولر پاکستان 2025 نمائش کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی، جو پاکستان کی متبادل توانائی کی طرف پیش رفت میں ایک سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ اس نمائش میں صنعتی پیمانے کی جدید اور انقلابی سولر ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں، جن میں سے کئی پہلی بار پاکستان میں متعارف کروائی گئیں۔ یہ ایونٹ کاروباری ترقی، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا جہاں متعدد معاہدے اور شراکت داریاں طے پائیں۔
اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے اس موقع پر کہا:
“سولر پاکستان جیسے ایونٹس ہمارے ملک میں متبادل توانائی کے حقیقی امکانات اجاگر کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ حکومتِ سندھ ہر اُس اقدام کی بھرپور حمایت کرتی ہے جو صنعتی تعاون کو فروغ دے، معاشی مواقع پیدا کرے اور ہمیں پائیدار توانائی کے مستقبل کی طرف لے جائے۔”
نمائش کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے فیکٹ ایگزیبیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او سلیم خان تنولی نے کہا:
“قومی و بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کی بھرپور شرکت اور دلچسپی دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ سولر پاکستان جدت اور تعاون کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے جو ملک کے توانائی مستقبل کو نئی جہت فراہم کر رہا ہے۔”
اس نمائش میں 250 سے زائد ملکی و غیرملکی نمایاں کمپنیاں، توانائی ماہرین، پالیسی ساز اور صنعت سے وابستہ دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے، جب کہ کاروباری طبقے اور عوام کی جانب سے بھی غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔
نمائش نے سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور عملی اقدامات کے وسیع مواقع فراہم کیے جو پاکستان کے جاری توانائی بحران کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس دوران اسمارٹ سولر پینلز، ہائبرڈ سسٹمز اور دیہی علاقوں کے لیے جدید متبادل توانائی کے ماڈلز پیش کیے گئے۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں سولر پاکستان 2025 نے فوری طور پر متبادل توانائی کی طرف منتقلی کی اہمیت اجاگر کی اور ایک جامع روڈ میپ پیش کیا جو مستقبل میں پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا ذریعہ بنے گا









































